علی گڑھ: یکم /اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں دوربیں مفکرتھے اور وہ ہندوستانیوں کے روشن مستقبل کے لئے انگریزی تعلیم کو ضروری گردانتے تھے۔ وہ ہندوستانیوں اور خصوصی طورپر مسلمانوں میں سائنسی فکر پیدا کرنا چاہتے تھے جس کے لئے انہوں نے ایم اے او کالج قائم کیا۔ ان خیالات کا اظہاریو جی سی ایچ آر ڈی سینٹر میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر فائزہ عباسی نے سرسید دو صد سالہ تقریبات کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آئی جی ہال میں منعقدہ پروگرام سے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ سرسید نے جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم کو بھی کافی اہمیت دی اوراسی کے مطابق طلبأ کو اقامتی زندگی میں تمام سہولیات بھی مہیا کرائیں۔انہوں نے کہاکہ سرسید طلبأ و طالبات کو سلیقہ سے زندگی بسر کرنے کا فن سکھانا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر فائزہ نے کہا کہ سر سید طالبات کو خود کفیل بنانا چاہتے تھے تاکہ وہ زندگی میں خود کو طاقتور اور با اختیار تصور کریں جس کے لیے ایم یو آج بھی کوشاں ہے۔ آخر میں ڈاکٹر فائزہ عباسی نے کہا کہ طالبات کو اس انداز سے تربیت دی جانی چاہیے کہ وہ جہاں بھی اور جب بھی لب کشائی کریں سننے والوں کو فوراً یہ علم ہو جائے کہ یہ طالبات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔سمپوزیم کے کوآرڈینیٹر اور ممتاز دانشور،مقرر و قلم کارپروفیسر شکیل صمدانی نے اپنے کلیدی خطبے میں کہا کہ سر سید کو اس مقام تک پہنچانے میں ان کی والدہ محترمہ کا بہت زیادہ رول رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نے بچپن سے ہی ان کی شخصیت کو صیقل کرنے کی کوشش کی۔پروفیسر صمدانی نے کہا کہ سر سید خودداری کو کافی پسند کرتے تھے اور یہ بات انہیں ناگوار گزرتی تھی کہ انگریزوں کے ایڈمنسٹریشن میں مسلمانوں کا دخل تقریباً صفر ہے۔ پروفیسر صمدانی نے مزید کہا کہ سر سید کو محض تعلیم کے علمبردار تک محدود رکھنا صحیح نہیں ہے بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ ایک سماجی مصلح، تاریخ داں، قانون داں،عربی فارسی کے ماہر، اعلیٰ درجہ کے مصنف،قرآن کے مفسر، بہترین ایڈمنسٹریٹر اور حساس دل رکھنے والے شخص تھے۔انہوں نے کہا کہ سر سید نے تقرری میں ہمیشہ قابلیت کو ترجیح دی اور معیار سے کبھی بھی سمجھوتا نہیں کیا۔ آج بر صغیر میں جو ترقی ہوئی ہے اس میں کہیں نہ کہیں سر سید کا اہم ترین رول ہے جو برِ صغیر کی علمی تاریخ کا روشن باب ہے۔ آخر میں پروفیسر صمدانی نے طالبات سے اپیل کی کہ وہ اکیسویں صدی کے چیلینجز کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کریں اورسرسید دو صد سالہ تقریبات اسی صورت میں کامیاب مانی جائیں گی کہ طالبات قومی اور بین الاقوامی سطح کے اخبارات اوررسائل و جرائد میں سر سید کے تعلق سے مضامین لکھ کر شائع کرائیں۔اپنے صدارتی کلمات میں ہال کی پروویسٹ پروفیسر آسیہ چودھری نے کہا کہ سر سید کی شخصیت کے بارے میں جاننے کے بعد حیرانی ہوتی ہے کہ ایک واحد شخص غیر مناسب حالات میں ایک ساتھ اتنے کام کیسے کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سر سید نہ صرف مسلمانوں بلکہ ملک کے لیے بھی ایک رول ماڈل ہیں۔آخر میں انھوں نے کہا کہ سر سید مشن اویرنیس پروگرام طلباء اور طالبات میں بہت بیداری پیدا کررہا ہے اور اس پروگرام کو مزید بڑی سطح پرمنعقد کیا جانا چاہیے۔ اس موقعہ پر طالبات ثناء حیدر اور سارہ صمدانی نے سر سید پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سمپوزیم کی نظامت کے فرائض انم بیگ نے انجام دئے۔مہمانان کا استقبال ڈاکٹر نغمہ اظہرنے کیا جبکہ ڈاکٹر ہالہ نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں صفاء عائشہ،روزی منصوری،ذیبا عرفان،شاذیہ پروین، دیپو جامون، شفق زہرہ، عبداللہ صمدانی،فوزیہ فاطمہ، روبیہ جبیں وغیرہ کا خصوصی تعاون رہا۔ پروگرام میں ڈاکٹر افسانہ، ڈاکٹر فریدہ، ڈاکٹر زرین، ڈاکٹرشعیب، ڈاکٹر سرور، ڈاکٹر راہل اور عقیل احمد(لکھنؤ) نے شرکت کی،آخر میں مختلف مقابلوں کے فاتحین کو انعامات تقسیم کیے گئاورمہمانان،عہدے داران وغیرہ کو یادگاری نشان ات سے سرفراز کیاگیا۔ پروگرام کا اختتام دعا پر ہوا۔